ابنا: غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدره کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیلی حملوں میں آٹھ سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں اسی طرح 5220 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیان کی رات اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 798 ہو گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق جنوبی غزہ میں ہوئے تازہ حملوں میں زخمی ہونے والے دو فلسطینیوں کی شہادت کے بعد یہ تعداد آٹھ سو ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی صبح جنوبی غزہ کے مشرقی خان یونس میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک گھر کو نشانہ بنایا جس میں ایک فلسطینی شہید ہو گیا۔ وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو شمالی غزہ کے بیت لاہيا میں صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں کی بمباری میں زخمی ہونے والا ایک 24 سالہ نوجوان محمود اسعد جمعہ کو شہید ہو گیا۔
فلسطینیوں کی جوابی کاروائی
اسرائیلی فوجیوں کے وحشیانہ حملوں کا فلسطینی مزاحمت کار منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کی فوجی شاخ القدس بریگیڈ نے جمعرات سے ایک مہم شروع کی ہے جس کا نام ہے محاصرے کی سکست۔ اس مہم کے تحت فلسطینی مجاہدین نے تل ابیب سمیت مختلف صیہونی شہروں پر 115 میزائل فائر کئے۔
القدس بریگیڈ نے اپنی سائٹ پر کہا کہ "محاصرے کی شکست" مہم میں تل ابیب، اسدود، بئرالسبع ، اسقلان اور غیلاف کالونیوں پر مختلف قسم کے 115 میزائل فائر کئے گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی شجاعیہ اور خزاعہ کے قتل عام کا انتقام ۔
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے شروع سے اب تک فلسطینی مزاحمت کار اسرائیل پر 1700 ميزائل فائرکر چکے ہیں۔ اس سے قبل حماس کی فوجی شاخ عزالدین القسام بریگيڈ کے جیالوں نے غزہ کے مشرقی علاقے التفاح میں آٹھ اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی الصفاء کے مطابق عزالدین القسام کے مزاحمت کاروں نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا کہ ایک مزاحمت کار التفاح علاقے میں صیہونی فوجیوں کی فرنٹ لائن پر پہنچنے میں کامیاب ہوا اور اس نے آٹھ اسرائیلی فوجیوں کو مارنے کے علاوہ ایک بكتربند گاڑی بھی تباہ کر دی۔
فسطینیوں کی سرکوبی کے لئے امریکی فوجیں روانہ
امریکی صدر نے اسرائیلی فوجیوں کی مدد کے لئے دو ہزار امریکی فوجی مقبوضہ فلسطین بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شام کے الاخباریہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق باراک اوباما نے پینٹاگون سے کہا ہے کہ غزہ پٹی کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کی مدد کے لئے دو ہزار فوجیوں کو مقبوضہ فلسطین بھیجنے کے لئے تیار کیا جا ئے۔ امریکی اخبار نیشنل رپورٹر کے مطابق پینٹاگون نے امریکی صدر کی اس درخواست پر رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔
فوجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر، اسرائیلی وزیر اعظم کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چھ ہزار فوجیوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر امریکی صدر فوجیوں کو مقبوضہ فلسطین بھیجنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو امریکی تاریخ میں پہلی بار ہو گا جب امریکی فوجی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ مل کر مقبوضہ فلسطین میں جنگی خدمات انجام دیں گے۔
پاکستان میں یوم سوگ
پاکستان نے غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت کے خلاف سرکاری سطح پر غزہ کے عوام سے یوم یکجہتی منانے کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی عوام سے یکجہتی کے لیے جمعۃ الوداع کو پاکستان میں یوم سوگ منایا جا رہا ہے اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہیں۔
غزہ کی صورت حال پر پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے یوم سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف نے غزہ کے متاثرین کے لیے 10لاکھ ڈالر امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے فلسطین کی حمایت کی تاکید
پاکستان نے غزہ کی ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے جمعرات کو ہفتہ وارانہ بریفنگ میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو وہاں سے اپنی افواج نکال لینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ اعزاز احمد چودھری نے غزہ میں اسرائیلی بمباری اور زمینی فوج کی کارروائی کو غیرانسانی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور بےگناہ شہریوں خاص کر خواتین اور بچوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی پاکستان نے ہر فورم پر کھل کر مخالفت کی ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے اسرائیلی حملوں پر واضح موقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور پاکستانی عوام ہر محاذ پر فلسطینی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم اوآئی سی اور دیگر ہم خیال ممالک سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے دباؤ ڈالیں۔
.......
/169